اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق عراقي وزير اعظم حيدر العبادي کے ايک قريبي ذرائع نے بتايا ہے کہ وزير اعظم نے ملک ميں داعش کے دہشت گردوں سے مقابلے کے لئے امريکا کي بري فوج کے استعمال پر مبني امريکي تجويز کو مسترد کر ديا ہے۔ لندن سے منتشر ہونے والے اخبار القدس العربي کي ويب سائٹ کے مطابق اس عراقي عہديدار نے اپنا نام خفيہ رکھنے کي شرط پر بتايا کہ امريکا کے چیف آف آرمی اسٹاف جنرل مارٹن ڈمپسي نے سنيچر کے روز وزير اعظم حيدر العبادي سے ملاقات ميں انہيں صوبہ نينوا اورعراق۔ شام سرحدي علاقوں ميں عنقرب شروع ہونےوالي فوجي مہم ميں امريکي فوجيوں کي شرکت سے متعلق تجويز پيش کي۔
اس ذرائع کا کہنا ہے کہ وزير اعظم نے امريکا کي اس تجويز کو مسترد کر ديا اور ڈمپسي کو يہ پيغام دے ديا کہ عراقي سيکورٹي اہلکاروں، قبائل اور رضاکار فورسز کيي موجودگي کے مد نظر ہميں غير ملکي فوجيوں کي ضرورت نہيں ہے اور ہم امريکا سے بغداد ۔واشنگٹن سيکورٹي معاہدے پر عمل در آمد اور جنگي طياروں کو عراق کے حوالے کئے جانے کا مطالبہ کر رہے ہيں۔
واضح رہے کہ امريکي کے چیف آف آرمی اسٹاف جنرل مارٹن ڈمپسي سنيچر کو عراق پہنچے جہاں انہوں نے عراقي حکام سے داعش سے جد جہد اور ملک ميں جاري بحران سے متعلق مسائل پر گفتگو کي۔
.......
/169